ایک سو چھ جمع ایک بے ایمان

ہوا یوں کہ چند کور کمانڈروں نے فیصلہ دیا کہ ہوا میں موجود ایک جنرل کو ملک کا چیف ایگزیکٹو بن جانا چاہئیے . ملک کی سب سے بڑی عدالت نے فیصلہ دیا کہ اس جنرل کو آئین میں ترمیم کا حق ہے . اس جنرل نے ملک میں بہت سی چیزیں تبدیل کیں . سپریم کورٹ نے اس کو کچھ نہیں کہا .
اب ایک دن اس جنرل کو پتہ چلا کہ بی اے کے سلیبس میں ایک ایسی چیز موجود ہے جو ایک بے وقوف کو عقل مند بنا دیتی ہے . اس نے الیکشن لڑ نے کے لیے بی اے کی ڈگری کو لازمی قرار دے دیا. سپریم کورٹ نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا .
اتفاق سےبہت سے سیاست دانوں نے جو اپنے علاقے کے لوگوں میں قابل قبول تھے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ڈگری ان کے کام میں حائل ہو سکتی ہے جیسے محترمہ عا بدہ حسین جو امریکہ جیسے ملک میں سفیر رہ چکی ہیں جیسے نوابزادہ نصراللہ خان جن کی زمینیں سیاست میں آنے کے بعد کم ہوئی تھیں
اب کچھ لوگوں نے تو بی اے کا امتحان دیا اور اخباروں میں مذاق کا نشانہ بننے ، کچھ نے اپنے بیٹوں ، بیٹیوں اور بہوؤں کو امیدوار بنایا .
کچھ نے سوچا کہ ویسی ہے ایمانی کی جا ۓ جیسی جنرل نے کی تھی کہ ملک پر قبضہ کر لیا ، ویسی ہی بے ایمانی کی جا ۓ جیسی سپریم کورٹ نے کی تھی کہ ایک جنرل کو آئین میں ترمیم کا حق دے دیا. ان لوگوں نے مدرسوں سے ڈگریاں لے لیں
بے ایمان جنرل کا گیارہ نومبر والا اقدام ابھی تک قانونی ہے
بے ایمان جنرل کو آئین میں ترمیم کا حق دینے والے جج سپریم کورٹ میں بیٹھے ہیں
لیکن مدرسے کی ڈگری لینے والا بے ایمان ہے
شاہد مسعود ، ہاں اسمبلیوں میں ایک سو چھ بے ایمان لوگ ہیں جن کی ڈگریوں پر اعتراض ہے، سپریم کورٹ میں ایک بے ایمان ہے جس کے فیصلے پر اعتراض ہے ، کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک سو چھ بے ایمانوں کو اسمبلیوں اور ایک بے ایمان کو عدالت سے نکال دیا جا ۓ

0 comments:

Post a Comment